قرآن پاک کی مکمل تجوید و قرآت کے 11 اہم قواعد
(11 Essential Rules of Tajweed and Qira’at of the Holy Quran)
تعارف (Introduction)
قرآن پاک کی مکمل تجوید و قرآت پر پوری پوری کتابیں اور کئی کئی سال کے کورسز ہیں، ظاہر ہے، آجکل اکثریت نے وہ نہیں کرنا، الا ماشاء اللہ۔
لہذا، صرف 11 لائنوں میں ایسے 11 رولز یعنی قرآنی تجوید و قرات کے 11 قواعد کو لکھ دیا گیا ہے کہ جو بھی انہیں یاد کر لے اور ان کی پریکٹس کر لے وہ
قاری حضرات کی طرح قرآن پڑھے گا ان شاء اللہ، یا کم از کم ایسا نہ پڑھے گا کہ قرآن اپنے پڑھنے والے پر ہی لعنت کر رہا ہو۔
ایسے آسان و جامع انداز میں اردو میں آپ کو تجوید کے قواعد مشکل ملیں گے، خود بھی یاد فرمائیں، بچوں کو بھی یاد فرموائیں۔
عام عوام اس سے زیادہ قواعد یاد کرنے کی کوشش کریں گے تو جو اصل اور بنیاد ہے وہ بھی رہ جائے گی، لہذا کم از کم یہ 11 قواعد تمام افراد کر لیں۔
کسی سوال کی صورت کمنٹس باکس میں میسج کریں۔
گیارہ قواعد برائے قرآن کریم (11 Rules of Quranic Tajweed)
قاعدہ نمبر 1: سات حروف ہمیشہ موٹے پڑھے جاتے ہیں
سات حروف ہمیشہ، ہر حالت میں موٹے پڑھے جاتے ہیں یعنی آواز کو موٹا اور بھارا کر کے پڑھیں گے
خ، ص، ض، غ، ط، ق، ظ
ان کا مجموعہ یہ بنتا ہے: خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ
قاعدہ نمبر 2: نون مشدد اور میم مشدد پر غنہ ہوگا
نون مُشدَّد اور میم مُشدَّد پر ہمیشہ غنہ (ناک میں آواز لے جا کر لمبا کرنا) ہو گا۔
جس لیٹر پر شد ہو اسے مشدد کہتے ہیں۔
مثلاً: اِنَّ، اَمَّ
قاعدہ نمبر 3: لفظ “اللہ” کے لام کی ادائیگی
لفظ اللہ کے “ل” کو ہمیشہ موٹا کر کے پڑھیں گے، لیکن اگر اس سے پہلے “زیر” آ جائے تو پھر لفظ اللہ کا لام پتلا کر کے پڑھیں گے۔
مثالیں
اَللہ اکبر (موٹا)
رسولُ اللہ (موٹا)
اَعُوذُ بِاللّٰہ (پتلا)
بِسْمِ اللّٰہ (پتلا)
قاعدہ نمبر 4: حرف “ر” کی ادائیگی
“ر” کو موٹا کر کے پڑھیں، لیکن اگر “ر” سے پہلے یا اس کے نیچے “زیر” آ جائے تو پھر “ر” کو پتلا کر کے پڑھیں گے۔
مثالیں
اَرْ (موٹی)
اِرْ (پتلی)
اُرْ (موٹی)
رَبُّ العالمین (موٹی)
اللہ کرِیم (پتلی)
قاعدہ نمبر 5: حروفِ قلقلہ
ق، ط، ب، ج، د — یہ حروف مل کر بنتے ہیں (قُطُبُ جَدٍّ)۔
ان حروف پر جب جزم ہو تو ان پر قلقلہ کریں گے (آواز کو توڑ دینا)۔
وقف کرتے وقت ہونٹ بند نہ رہیں بلکہ کھل جائیں۔
مثالیں
اَبْ، اِبْ، اُبْ
قاعدہ نمبر 6: نون ساکن یا تنوین کے بعد حروفِ حلقی
نون ساکن (نون پر جزم) یا تنوین (دو زبر، دو زیر، دو پیش) کے بعد اگر حروفِ حلقی میں سے کوئی حرف آ جائے تو غنہ نہیں کریں گے۔
حروفِ حلقی 6 ہیں: ء، ہ، ع، غ، ح، خ
مثالیں: عَنْہ، غَاسِقٍ، اِذَا
قاعدہ نمبر 7: نون ساکن یا تنوین کے بعد حروفِ اخفاء
نون ساکن اور تنوین کے بعد اگر حروفِ اخفاء آ جائیں تو غنہ کریں گے۔
حروفِ اخفاء 15 ہیں
ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ك
مثالیں: مِنْ شَرِّ، نارًا ذَاتٍ
قاعدہ نمبر 8: نون ساکن یا تنوین کے بعد: ب
اگر نون ساکن یا تنوین کے بعد ب آ جائے تو نون ساکن اور تنوین کو میم سے بدل کر غنہ کریں گے۔
اسے اقلاب کہتے ہیں۔
مثال: مِنْ بَعْدِ
قاعدہ نمبر 9: نون ساکن یا تنوین کے بعد: حروفِ یرملون
اگر نون ساکن یا تنوین کے بعد حروف یرملون (ی ر م ل و ن) میں سے کوئی حرف آ جائے تو ادغام (ایک حرف کو دوسرے سے ملا دینا) کریں گے۔
ر اور ل بغیر غنہ کے
باقی چار غنہ کے ساتھ
مثالیں
مَنْ یَّقُولُ (غنہ کے ساتھ)
مِنْ نَّبِیٍّ (غنہ کے ساتھ)
مِنْ رَّبِّکَ (بغیر غنہ کے)
قاعدہ نمبر 10 (۱): میم جزم کے بعد “ م”
اگر میم جزم کے بعد م آ جائے تو غنہ کریں گے۔
اسے ادغام شفوی کہتے ہیں۔
مثال: لَہُمْ مَّا
قاعدہ نمبر 10 (۲): میم جزم کے بعد “ ب”
میم جزم کے بعد اگر ب آ جائے تو بھی غنہ ہو گا۔
اسے اخفائے شفوی کہتے ہیں۔
مثال: كُنْتُمْ بِہ
قاعدہ نمبر 10 (۳): میم جزم کے بعد دوسرے حروف
میم جزم کے بعد اگر م اور ب کے علاوہ کوئی اور حرف آ جائے تو غنہ نہیں کریں گے۔
اسے اظہار شفوی کہتے ہیں۔
مثال: اَلَمْ تَرَ
قاعدہ نمبر 11: مد کے اصول
مد کو 1 سے 3 کھڑی زبر کے برابر لمبا کیا جا سکتا ہے۔
مدہ و لین کے وقف پر بھی تین کھڑی زبر کے برابر آواز کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔
مثالیں:
الٓمّٓ – جَآ ءَ – لَا اَعْبُدُ – الحمد للہ رب العالمِین – قُرَیْش
اختتامیہ (Conclusion)
یہ 11 قواعد قرآن کریم کو صحیح تلفظ، احترام اور خشوع کے ساتھ پڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کا یاد کرنا اور روزانہ پریکٹس کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔
اللہ ہمیں صحیح تلاوتِ قرآن کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

huroof e ikhfaa agr alag se bta diay jatay tw aasani hojani.
ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ك
بہت خوب ۔جزاک اللہ
جزاک اللہ خیرا